اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے تیز رفتار فروغ کی کڑی نگرانی شروع کی ہے۔ بی بی سی نے سعودی عرب اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے اور بعید از قیاس نہیں ہےکہ سعودی عرب پاکستان کے ذریعے ایٹم بم حاصل کرلے اور اس کے ایران کے ایٹمی تنصیبات کے خلاف استعمال کرے! اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا یہ اقدام ایران اور مغرب کے درمیان مفاہمت کے مقابلے میں حفظ ما تقدم کی غرض سے انجام پایا ہے اور پاکستان سعودی عرب کو ایٹم بم منتقل کرنے کے لئے تیار اور حتی اس نے ایٹمی وار ہیڈز کی ایک خاص تعداد سعودی عرب کے لئے تیار کررکھی ہے۔ نوز شریف اور ان کی حکومت کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب 1990 کے عشرے کے وسط سے ہی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے لئے کوشاں ہے اور تیل سے ملنے والی بڑی آمدنی، چین اور پاکستان سے بڑھنے والے تعلقات اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے خوف سعودی عرب میں ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی طرف رغبت کے اسباب بیان ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بندر بن سلطان اس مسئلے میں کتنا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ طویل عرصے تک واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر رہے ہیں اور افغانستان پر سابق سوویت یونین کے حملے کے وقت بھی امریکی خفیہ اداروں کی مدد سے انھوں نے افغان جنگجؤوں کو مختلف ہتھیاروں سے لیس کیا تھا اسی بنا پر ان کے ماضی سے پاکستانیوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے 1970 اور 1980 کے عشروں میں ایٹمی شعبے میں پاکستان کو بڑی مالی امداد فراہم کی ہے اور اس وقت اسلام آباد کو بھاری مالی امداد فراہم کرکے پاکستان سے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے لئے تیار ہے۔ دریں اثناء پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس ملک کے ایٹمی پروگرام میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کی ہے۔بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں متعدد ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سعودی عرب جب چاہے پاکستان سے یہ ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔ جمعرات کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چودھری نے بی بی سی اردو کو بھیجے گئے پیغام میں اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر بے بنیاد، شرانگیز اور فرضی ہے۔ ۔۔۔۔اس سلسلے مں پاکستان کے اعتماد ڈیلی کی رپورٹ:سعودی عرب ‘ایٹم بم حاصل کرسکتا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ پاکستان کے نیوکلیر پروگرام میں سعودی عرب نے سرمایہ کاری کی ہے اور وہ اسلام آباد سے کبھی بھی ایٹم بم حاصل کرسکتا ہے۔یہ اطلاع سعودی عرب کے ایک ذریعہ سے موصول ہوئی ہے۔ سعودی عرب ‘ایران کے ایٹمی پروگرام کا مقابلہ کرتا رہا ہے مگر اس کے لئے اب یہ ممکن ہے کہ تہران سے قبل ایٹم بم حاصل کرلے۔اس سال کے شروع میں ناٹو کے ایک اعلیٰ پالیسی ساز نے بتایا تھا کہ خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے لئے جو ایٹمی ہتھیار بنائے تھے وہ اب اسے ملنے والے ہیں۔ پچھلے ماہ اسرائیل فوج کے جاسوسی کے محکمہ کے سابق سربراہ امود یادلن نے سویڈن کی ایک کانفرنس میں دعوی کیا ہے کہ اگر ایران نے ایٹم بم حاصل کرلیا تو سعودی عرب کو بم حاصل کرنے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت لگے گا وہ اسے پاکستان سے حاصل کرسکتا ہے۔ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے 2009 میں امریکہ کے خاص نمائندے سے کہا تھا کہ اگر ایران ایٹم بم بنا لیتا ہے تو سعودی عرب بھی اسے حاصل کرسکتا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں متعدد ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سعودی عرب جب چاہے پاکستان سے یہ ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔ جمعرات کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چودھری نے بی بی سی اردو کو بھیجے گئے پیغام میں اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر بے بنیاد، شرانگیز اور فرضی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام انتہائی مضبوط اور ایکسپورٹ کنٹرول جامع ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی معیار اور عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے حفاظتی معیار کے مطابق ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام پر متعدد بار مغربی ممالک تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پاکستان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ اس کے ایٹمی اثاثے محفوظ اور بہترین کمانڈر اور کنٹرول سسٹم کے تحت ہیں۔
سورس:اعتماد ڈیلی